اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراق کے سیاسی اتحاد ’’دولتِ قانون‘‘ کے سربراہ نوری المالکی نے ملک میں اسلحے کو صرف ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے معاملے پر ممکنہ کشیدگی سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کو کسی بھی صورت داخلی تنازع کی طرف نہیں جانے دیا جائے گا۔
نوری المالکی نے سیاسی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ عراق اس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جس میں سیاسی رہنماؤں کو انتہائی ذمہ داری اور دانش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق بعض عناصر ملک کے سیاسی ماحول کو کشیدہ کرنے اور اندرونی اختلافات کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے ہاتھ میں اسلحے کی مرکزیت کا معاملہ کسی بھی قسم کی کشیدگی کے بغیر حل کیا جانا چاہیے، کیونکہ داخلی لڑائی پورے عراق کے مفادات اور ملکی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
المالکی نے واضح کیا کہ حکومت اور ’’کوآرڈینیشن فریم ورک‘‘ عراق کو داخلی تنازع کی جانب لے جانے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے ملک کو علاقائی یا بین الاقوامی تنازعات کا میدان بننے سے روکنے کے لیے قومی اور علاقائی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔
عراقی رہنما نے وزیراعظم علی الزیدی کی کابینہ کی تکمیل اور خالی وزارتوں پر جلد فیصلہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’کوآرڈینیشن فریم ورک‘‘ حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کے کام کو جاری رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی پر بعض تحفظات کا اظہار حکومت کی تبدیلی یا اسے گرانے کی حمایت نہیں، بلکہ خامیوں کی نشاندہی اور حکومتی اقدامات میں اصلاح کی ضرورت کی طرف اشارہ ہے۔
نوری المالکی کے مطابق موجودہ صورتحال میں عراق کے تحفظ اور استحکام کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات، باہمی مفاہمت اور قومی مفادات کو ترجیح دینے کو بہترین راستہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ عراقی حکومت نے ملک میں اسلحے کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے منصوبے کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے اور ستمبر 2026 کو اسلحہ ریاست کے حوالے کرنے کی آخری مدت مقرر کی ہے۔
آپ کا تبصرہ